شہری کے اکاؤنٹ کا صفایا کرنے والا سابق بینک ملازم 10 سال بعد پکڑا گیا
ملزم نے صارف کی چیک بکس کا استعمال کرکے اکاؤنٹ سے 42 لاکھ روپے ہتھیائے
صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں شہری کے اکاؤنٹ کا صفایا کرنے والا سابق بینک ملازم 10 سال بعد پکڑا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ نے شہری کے اکاؤنٹ کا صفایا کرنے والے سابق بینک ملازم کو 10 سال بعد گرفتار کر لیا، اس حوالے سے ڈپٹی ڈائریکٹر کمرشل بینکنگ سرکل کراچی علی مراد کی زیر نگرانی ایک کارروائی عمل میں لائی گئی، جس کے نتیجے میں فراڈ میں ملوث نجی بینک کے سابق ملازم فہد محمد محسن کو گرفتار کیا گیا۔
ایف آئی اے ترجمان نے بتایا ہے کہ ملزم نے دوران تعیناتی جعل سازی سے صارف کی چیک بکس جاری کروائیں، جن کی مدد سے ملزم فہد محمد محسن نے بینک صارف کے اکاؤنٹ سے 42 لاکھ روپے ہتھیائے، اس فراڈ پر ملزم کے خلاف سال 2013ء میں مقدمہ درج ہوا، تاہم وہ 10 سال سے روپوش تھا، گرفتاری کے بعد فہد محمد محسن سے
تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔
ادھر صدر مملکت ڈاکڑ عارف علوی نے بینک فراڈ سے متاثرہ ایک اور شہری کو لاکھوں روپے واپس کرنے کی ہدایت کردی، فراڈ کے اس کیس میں بینکنگ محتسب نے بینک کو رقم واپس کرنے کی ہدایت کی مگر بینک نے فیصلے کے خلاف صدر کو اپیل دائر کی، صدر مملکت نے کیس کی ذاتی طور پر سماعت کی اور بینک کی اپیل کو مسترد کردی اور بینکنگ محتسب کا حکم برقرار رکھتے ہوئے بینک فراڈ متاثرہ شہری کو 3 لاکھ 44 ہزار 602 روپے واپس کرنے کی ہدایت کردی۔
صدر مملکت کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الائیڈ بینک کے صارف کے اکاؤنٹ سے 3 لاکھ 44 ہزار 602 روپے دھوکہ دہی سے نکالے گئے، بینک نے صارف کی رضامندی کے بغیر فنڈ منتقلی سہولت کھول کر بدانتظامی کا ارتکاب کیا، بلا اجازت آن لائن فنڈ ٹرانسفر سہولت کھولنے کی وجہ سے صارف کو نقصان اٹھانا پڑا کیوں کہ بینک قانونی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہا اور بلا اجازت انٹرنیٹ بینکنگ چینل کھول بے ضابطگی اور عدم تعمیل کا ارتکاب کیا۔فیصلے سے معلوم ہوا ہے کہ شکایت کنندہ کو بینک ہیلپ لائن سے ملتے جلتے نمبر سے فون کال موصول ہوئی، کال کے بعد اکاؤنٹ سے 3 لاکھ 44 ہزار 602 روپے کی رقم منتقل کی گئی، صارف نے ماضی میں آن لائن چینلز کے ذریعے کوئی لین دین نہیں کیا، شہری امیر علی وسان نے فراڈ کے فوری بعد شکایت درج کروائی لیکن شکایت حل نہ ہوئی تو صارف نے کھوئی ہوئی رقم کی واپسی کے لیے بینکنگ محتسب سے رجوع کیا۔صدر مملکت کا اپنے فیصلے میں کہنا ہے کہ بینک ادائیگی کے نظام اور الیکٹرانک فنڈز ٹرانسفر ایکٹ 2007ء کے سیکشن 41 کے تحت متنازعہ لین دین کی قانونی حیثیت ثابت کرنے میں ناکام رہا، رقم کی قسطوں میں منتقلی ایک ہی تاریخ پر ، بہت ہی مختصر وقت میں ایک ہی طرز پر کی گئی، رقم منتقلی پر بینک سسٹم الرٹ ہونا چاہیے تھا اور کم از کم صارف کو کال تو جانی چاہیئے تھی، اس تشویشناک امر پر بینکوں اور اسٹیٹ بینک کو توجہ دینی چاہیئے، شہری ڈیجیٹل بینکنگ ، جدید ٹیکنالوجی پر مبنی بینکنگ مصنوعات سے واقف نہیں، بینک آن لائن چینلز کے حوالے سے قوانین اور اسٹیٹ بینک کی ہدایات کی تعمیل کرنے میں ناکام رہا اس لیے اپیل مسترد کی جاتی ہے، 30 دنوں کے اندر بینکنگ محتسب کو تعمیل کی رپورٹ جمع کرائیں۔
Download Now
Comments
Post a Comment